حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا میں 9 محرم الحرام کی مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کی بلاوجہ تعریف و تمجید نہیں کرتا، بلکہ سخت آزمائشوں اور امتحانات سے گزرنے کے بعد اسے بلند مقام اور عظیم مرتبہ عطا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا کے تمام شہداء میں حضرت عباس علیہ السلام کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ آپؑ کی زیارت میں مذکور مضامین آپ کے بلند مرتبے اور عظمت کی واضح دلیل ہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین مومنی نے کہا کہ حضرت عباس علیہ السلام مقامِ عبودیت پر فائز ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے صالح بندے بنے۔ آپؑ نہ صرف خداوند متعال کے مطیع تھے بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی مکمل اطاعت بھی کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ سیدالشہداء علیہ السلام کی سیرت پر غور و فکر کا بہترین موقع ہے، کیونکہ کربلا عقلانیت، حماسہ اور جذبۂ محبت و احساس کا حسین امتزاج ہے۔
انہوں نے حضرت عباس علیہ السلام کے ادب و احترام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ امام حسین علیہ السلام کے سامنے کامل تسلیم و رضا کا پیکر تھے اور وہی عمل انجام دیتے تھے جس کا حکم سیدالشہداء علیہ السلام دیتے تھے۔ یہ طرزِ عمل آج کے مؤمنین کے لیے بہترین نمونۂ عمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ میدانِ عمل میں موجود رہیں، قومی اتحاد کو کمزور نہ ہونے دیں اور اپنے فرائض سے غفلت نہ برتیں، کیونکہ ذمہ داریوں سے غفلت انسان کو دشمن کے جال میں پھنسا سکتی ہے۔
خطیبِ حرم نے کہا کہ حضرت عباس علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے حکم کی تعمیل میں آخری لمحے تک وفاداری اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ جب امام حسین علیہ السلام نے آپؑ کو خیموں کے لیے پانی لانے کی ذمہ داری سونپی تو آپؑ نے اپنی آخری سانس تک اس مشن کو پورا کرنے کی کوشش جاری رکھی، اور یہی اطاعت و وفاداری آپؑ کی عظمت کا سب سے روشن عنوان ہے۔









آپ کا تبصرہ